حرفِ نیاز
1

اُن کے جمالِ جاں فِزا کی بات چاہیے

ذکرِ نبیؐ زُباں پہ دِن رات چاہیے

2

جس کی فضا خمارِ محبت سے چُور ہو

رحمت لُٹے جہاں وہ خرابات چاہیے

3

ہر لحظہ آنسوؤں سے گریباں تر رہے

عشقِ نبیؐ کے درد کی بُہتات چاہیے

4

تنہائیوں میں نعتِ نبیؐ کا اثر تو دیکھ

ویران دِل کو بارشِ نغمات چاہیے

5

بھیجا کر اب دُرود کے تحفے نبیؐ کے نام

اے دِل! تجھے تلافئ مافات چاہیے

6

دہلیزِ آلِ فاطمہؓ ہو اور سرِ نِیاز

مجھ کو فقط غلامئ سادات چاہیے

7

مضبوط ہو تعلقِ خاطر حضورؐ سے

محکم ہو رابطِ جاں وہ مناجات چاہیے

8

ساؔجِد عطا و جود و کرم کا ہے منتظر

تیری نگاہِ قبلہِ حاجات چاہیے