← شوقِ فراواں
کیف جو آج پہلے کبھی مذکور نہ تھا
اُن کے احساں سے دِل یوں مِرا مسرور نہ تھا
خانہِ دِل میں ہے لاریبِ خُدا کی تصویر
ہم ہی بیگانہ رہے ورنہ خُدا دور نہ تھا
آپؐ آئے تو نبھی⚠️ میں دہیر⚠️ عِرفاں کا بساط⚠️
دور تاریک میں ایسا کوئی دستور نہ تھا
جب سے اس عالَم ایجاد کی تخلیق ہوئی
اس سے پہلے شہِدین میں کہاں نُور نہ تھا
ہم ہی ظُلمت میں رہے وہم کے زنداں کے اندر
ورنہ حق ایک گھڑی بھی کبھی مستور نہ تھا
اُن کے پَیکر سے عَیاں حقِ بَین المطلق
دیکھتا حق کو میں بے پردہ یہ مقدور نہ تھا
شوقِ یہ اُن کو نہیں تھا کہ زیارت ہو نصیب
حقِ کے جلووں سے وہ ساجدؔ بھی مجبور نہ تھا