شوقِ فراواں
1

کیف جو آج پہلے کبھی مذکور نہ تھا

اُن کے احساں سے دِل یوں مِرا مسرور نہ تھا

2

خانہِ دِل میں ہے لاریبِ خُدا کی تصویر

ہم ہی بیگانہ رہے ورنہ خُدا دور نہ تھا

3

آپؐ آئے تو نبھی⚠️ میں دہیر⚠️ عِرفاں کا بساط⚠️

دور تاریک میں ایسا کوئی دستور نہ تھا

4

جب سے اس عالَم ایجاد کی تخلیق ہوئی

اس سے پہلے شہِدین میں کہاں نُور نہ تھا

5

ہم ہی ظُلمت میں رہے وہم کے زنداں کے اندر

ورنہ حق ایک گھڑی بھی کبھی مستور نہ تھا

6

اُن کے پَیکر سے عَیاں حقِ بَین المطلق

دیکھتا حق کو میں بے پردہ یہ مقدور نہ تھا

7

شوقِ یہ اُن کو نہیں تھا کہ زیارت ہو نصیب

حقِ کے جلووں سے وہ ساؔجِد بھی مجبور نہ تھا