← شوقِ فراواں
رحمت حق نے کیا اُٹھا نہ کیا
مرحلہ کیا جو اُس نے سر نہ کیا
رہزنوں کو رسُولؐ اکرم نے
کیا زمانے کا راہنبر نہ کیا
جن کو دیکھا نبیؐ نے اِک نظر
کیا انہیں صاحبِ نظر نہ کیا
علم و حکمت سے کیا جہاں بھر کو
شاہؐ عالَم نے باخبر نہ کیا
آپؐ نے کیا تجلی حق سے
روئے عالَم کو کیا سحر نہ کیا
ہم ہی غافل تھے حق تعالیٰ نے
خانہِ دِل سے کب گزر نہ کیا
ہو نہ ساجدؔ جو شوق⚠️ سے معمور
لمحہ ایسا بھی بسر نہ کیا