شوقِ فراواں

خمِ رُسُلؐ⚠️ ہیں علمِ لدنی پڑھتے ہوئے

کل انبیاؐ سے آپؐ ہیں آگے بڑھتے ہوئے

تاریخِ سازِ اُن کے غلاموں کے معرکے

ہیں سنگ مل⚠️ آج بھی اُن کے گڑھتے ہوئے

انسان و جن ہی اُن کے نہیں ہیں سلامذ⚠️

قدمی بھی آسماں کے ہیں اُن سے پڑھتے ہوئے

ہوتے تھے مجاہدین جو دشمن پہ حملہ زن

لگتا کہ آگے ہیں یہ دریا چڑھتے ہوئے

حوروں کی جتھی عقیدت و اِخلاص کی بہار

اُن کی بساطِ فرش پہ گُلشن کرتے ہوئے

اندازہ کیا کرے گا کوئی اُن کے علم کا

سرداری ہیں خُدا سے پڑھتے ہوئے

ساجدؔ حریمِ جاں میں ہے بسی ہے یادِ نبیؐ

اُن کے ہیں وصفِ داماں پر کڑھتے ہوئے