شوقِ فراواں

رہبری آپؐ کے ہی نقشِ قدم سے ہو گی

روشنی وہر میں خورشیدِ حرم سے ہو گی

دِل بنا ہی کے مجھے یہ ہے یہ دولت آئے

آپؐ کی دید کہاں ساغَرِ جم سے ہو گی

للہ الحمد آئے اور پَیامِ آئیں گے

نِسبتِ روحِ ارگر⚠️ شاہِ اُمم سے ہو گی

پہیئے⚠️ اُن کو دروودوں کے تحائف ہر روز

عیدِ ہر روزِ شہِ دیں کے کرم سے ہو گی

مشق⚠️ بزرگ کی سعادت بھی عجب نعت ہے

روشنی ہم کو عطا نُور اُمم سے ہو گی

پِیرَوی آپؐ کی رکھتی ہے دِلوں کو شاداں

دور حَسرت نہ یہ بھی گریۂ غم سے ہو گی

صحیح خاطِر یقارِ⚠️ ساجدؔ ہے یقین ہے

شاہِ کونین کے ہی یمنِ قدم سے ہو گی