← شوقِ فراواں
1
رہبری آپؐ کے ہی نقشِ قدم سے ہو گی
روشنی وہر میں خورشیدِ حرم سے ہو گی
2
دِل بنا ہی کے مجھے یہ ہے یہ دولت آئے
آپؐ کی دید کہاں ساغَرِ جم سے ہو گی
3
للہ الحمد آئے اور پَیامِ آئیں گے
نِسبتِ روحِ ارگر⚠️ شاہِ اُمم سے ہو گی
4
پہیئے⚠️ اُن کو دروودوں کے تحائف ہر روز
عیدِ ہر روزِ شہِ دیں کے کرم سے ہو گی
5
مشق⚠️ بزرگ کی سعادت بھی عجب نعت ہے
روشنی ہم کو عطا نُور اُمم سے ہو گی
6
پِیرَوی آپؐ کی رکھتی ہے دِلوں کو شاداں
دور حَسرت نہ یہ بھی گریۂ غم سے ہو گی
7
صحیح خاطِر یقارِ⚠️ ساؔجِد ہے یقین ہے
شاہِ کونین کے ہی یمنِ قدم سے ہو گی