نور و سرور

ایوانِ شاہِ جن و بشر تک پہنچ گیا

خُوش بخت ہے جو آپؐ کے در تک پہنچ گیا

غم کی کڑی تھی دُھوپ، میں تائیدِ لُطف سے

پُرمیوہ، پُر بہار شجر تک پہنچ گیا

مدت سے میں پڑا تھا گردِ تِیرَگی

اُن کے کرم سے بزمِ سحر تک پہنچ گیا

ذرّہ ہو نجم، سنگ نے لعل تابدار

قِسِمت سے جو بھی اُن کی نظر تک پہنچ گیا

میں زیرِ مِثل "زیر" تھا آلودۂ غُبار

اُن کے کرم سے فوقِ "زبر" تک پہنچ گیا

اُس کو نَجات مل گئی رنج و عذاب سے

وہ ہی اٹھا جو آپؐ کے در تک پہنچ گیا

ساجد کو کون پوچھتا تھا بزمِ شعر میں

فیضِ نظر سے اہلِ ہنر تک پہنچ گیا