نور و سرور
1

ایوانِ شاہِ جنّ و بشر تک پہنچ گیا

خُوش بخت ہے جو آپؐ کے در تک پہنچ گیا

2

غم کی کڑی تھی دُھوپ ‘ میں تائیدِ لُطف سے

پُرمیوہ ‘ پُر بہار شجر تک پہنچ گیا

3

مدت سے میں پڑا تھا گردِ تِیرَگی

اُن کے کرم سے بزمِ سحر تک پہنچ گیا

4

ذرّہ ہو نجم ‘ سنگ بنے لعلِ تابدار

قِسِمت سے جو بھی اُن کی نظر تک پہنچ گیا

5

میں زیر مِثلِ "زیر" تھا آلودۂ غُبار

اُن کے کرم سے فوقِ "زبر" تک پہنچ گیا

6

اُس کو نَجات مل گئی رنج و عذاب سے

وہ جی اٹھا جو آپؐ کے در تک پہنچ گیا

7

ساؔجِد کو کون پوچھتا تھا بزمِ شعر میں

فیضِ نظر سے اہلِ ہنر تک پہنچ گیا