شوقِ فراواں

شیدائے نبیؐ رنگ میں اُف نہیں کبھی کرتا

تخیّل میں لاریب توقف نہیں کرتا

جوہر کی طرف بھی دِل آتا ہے یہ سچ ہے

حُسن اپنے کا چرچا بھی کبھی نہیں کرتا

جس امر کو تائید نبیؐ کی نہیں ملتی

صوفی اُسے شامِل پہ تصوّف نہیں کرتا

دولت ہو اگر اُن کی حضوری کی میسّر

گنجینہ یاقوت بھی تخف⚠️ نہیں کرتا

بغداد ہے ویران تو کامِل ہے بِیاباں

ہے کون مسلمان جو تاثّف نہیں کرتا

مومن ہے وہی اُن کا کہ جو تابع فرمان

آقاؐ کی جو سنت میں تصرّف نہیں کرتا

بے ساختہ کہتا ہوں جو آئے مِرے دِل میں

ساجدؔ میں ذرا سا بھی تکلّف نہیں کرتا