شوقِ فراواں
1

شیدائے نبیؐ رنگ میں اُف نہیں کبھی کرتا

تخیّل میں لاریب توقف نہیں کرتا

2

جوہر کی طرف بھی دِل آتا ہے یہ سچ ہے

حُسن اپنے کا چرچا بھی کبھی نہیں کرتا

3

جس امر کو تائید نبیؐ کی نہیں ملتی

صوفی اُسے شامِل پہ تصوّف نہیں کرتا

4

دولت ہو اگر اُن کی حضوری کی میسّر

گنجینہ یاقوت بھی تخف⚠️ نہیں کرتا

5

بغداد ہے ویران تو کامِل ہے بِیاباں

ہے کون مسلمان جو تاثّف نہیں کرتا

6

مومن ہے وہی اُن کا کہ جو تابع فرمان

آقاؐ کی جو سنت میں تصرّف نہیں کرتا

7

بے ساختہ کہتا ہوں جو آئے مِرے دِل میں

ساؔجِد میں ذرا سا بھی تکلّف نہیں کرتا