شوقِ فراواں
1

حق نے چنتے بھی کئے یہ حق ختم رُسُلؐ ہوا پیدا

نہ کیا ختم رُسُلؐ کا کوئی ہمسر پیدا

2

کرسی و لوح و قلم ذاتِ نبیؐ کے جَلوے

نُور احمدؐ سے ہوئے گُل و عنبر پیدا

3

ہے کہاں عالَم ایجاد میں اُن کا ثانی

حق نے محبوبؐ کو کیا سب سے برتر پیدا

4

اسمِ حق ایک ہے فقَط اِک نبیؐ ہے عِیاں

شاہِ آفاق ہے جس ذات کا منظَر پیدا

5

ذات سے ذاتِ نبیؐ روحِ دوگل⚠️ نوروں کی

نُور سے اُنؐ کے ہوا خاکِ کا منظَر پیدا

6

آپؐ کی آنکھ ہے ہے نُور سے یہ عرش بَریں ہے

نُور ہی سے ہوئے اَفلاک یہ بے در پیدا

7

نُور ہے مادہ تخلیق اے ساؔجِد جہاں

ہے اسی نُور سے فِردَوس کے فِردَوس⚠️ معطّر پیدا