← شوقِ فراواں
1
ہم نے گرداب سے کشتی کو نکلتے دیکھا
نام سُلطانؑ سے رنگ باد بدلتے دیکھا
2
زِندگی بھر نہ آئے ہم نے پلٹتے دیکھا
آپؐ کی راہ پر جس شخص کو چلتے دیکھا
3
یمین پا سے ہری سبزِ زمیں ہوئی صَحرا سُو
ہم نے سُوکھے ہوئے اشجار کو پھلتے دیکھا
4
لُطف و رحمت کا یہ خورشید سدا روشن ہے
چشمہ نُور و روز کی شب اسے اُگلتے دیکھا
5
آوی ایسے کہ وحشی جس کو کبتا⚠️ تھا جہاں
سائے لُطفِ نبیؐ میں اُنہیں⚠️ پلتے دیکھا
6
جب چلے ہم طَیَّبہ کو ہم لوگ دلن⚠️ کے
طفل کی طرح یہ دِل اپنا بھی کھلتے دیکھا
7
یاد آئے مجھے خَلوت کے وہ جو خَلوت دیکھا
دور صَحرا میں دیا شب کو جو چلتے دیکھا