شوقِ فراواں

ہم نے گرداب سے کشتی کو نکلتے دیکھا

نام سُلطانؑ سے رنگ باد بدلتے دیکھا

زِندگی بھر نہ آئے ہم نے پلٹتے دیکھا

آپؐ کی راہ پر جس شخص کو چلتے دیکھا

یمین پا سے ہری سبزِ زمیں ہوئی صَحرا سُو

ہم نے سُوکھے ہوئے اشجار کو پھلتے دیکھا

لُطف و رحمت کا یہ خورشید سدا روشن ہے

چشمہ نُور و روز کی شب اسے اُگلتے دیکھا

آوی ایسے کہ وحشی جس کو کبتا⚠️ تھا جہاں

سائے لُطفِ نبیؐ میں اُنہیں⚠️ پلتے دیکھا

جب چلے ہم طَیَّبہ کو ہم لوگ دلن⚠️ کے

طفل کی طرح یہ دِل اپنا بھی کھلتے دیکھا

یاد آئے مجھے خَلوت کے وہ جو خَلوت دیکھا

دور صَحرا میں دیا شب کو جو چلتے دیکھا