شوقِ فراواں
1

سبز گُنبد دیکھتے رہنے کا ارمان ہی رہا

ہر زیارت پر تر دیدہ حیراں ہی رہا

2

آپؐ کے در پر پہنچنا اپنی چاہت ہے

آپؐ کے در پر پہنچنا آرزو کی خُوشی ہی رہا

3

وہ سدا کرتے رہے نظرِ صرف میرے قصور

زِندگی بھر اُن کا لُطف و اِحسان ہی رہا

4

دُھوپ تھی زمانے میں کوئی شجر نہ سایہ دار

سر پر مِیرے رحمتِ آپؐ کی دامان ہی رہا

5

ہر مسافِر اُن کی زہ میں گرم جولاں ہی رہا

ریگبور گو شوق دِل کا بہت پیچ و خم ہی رہا

6

شاہِ عالَم کی نَوازِش ہمہ وقت آس ہے

شاہِ عالَم کا خِیال ہمیشہ آساں ہی رہا

7

یہ یقینِ حق الیقیں اُن میں ہے وہ حق میں ہیں

ساؔجِد اپنا یہ عقیدہ جانِ ایمان ہی رہا