شوقِ فراواں

سبز گُنبد دیکھتے رہنے کا ارمان ہی رہا

ہر زیارت پر تر دیدہ حیراں ہی رہا

آپؐ کے در پر پہنچنا اپنی چاہت ہے

آپؐ کے در پر پہنچنا آرزو کی خُوشی ہی رہا

وہ سدا کرتے رہے نظرِ صرف میرے قصور

زِندگی بھر اُن کا لُطف و اِحسان ہی رہا

دُھوپ تھی زمانے میں کوئی شجر نہ سایہ دار

سر پر مِیرے رحمتِ آپؐ کی دامان ہی رہا

ہر مسافِر اُن کی زہ میں گرم جولاں ہی رہا

ریگبور گو شوق دِل کا بہت پیچ و خم ہی رہا

شاہِ عالَم کی نَوازِش ہمہ وقت آس ہے

شاہِ عالَم کا خِیال ہمیشہ آساں ہی رہا

یہ یقینِ حق الیقیں اُن میں ہے وہ حق میں ہیں

ساجدؔ اپنا یہ عقیدہ جانِ ایمان ہی رہا