← شوقِ فراواں
1
بھاری ہے بہت بار الَم اُٹھ نہیں سکتا
لاغر ہوں میں اے شانِ کرم! اُٹھ نہیں سکتا
2
کافی ہے مجھے آپؐ کی اِک چشم نَوازِش
اب میرا لکھنے کو ہے دم اُٹھ نہیں سکتا
3
سرکارؐ! مِرے ضعف کا ہو چارہ خدارا
دِل میرے میں ہے حوصلہ کم اُٹھ نہیں سکتا
4
تاوقتیکہ آقاؐ کی اجازت نہیں ہوتی
کوئی بھی قدم سوئے حرم اُٹھ نہیں سکتا
5
میں بمکہ ہوں لاچار مِری کچھنے اِمداد
سر مجھ سے مِرا میرِ الَم اُٹھ نہیں سکتا
6
جب تک نہ میسر ہو شہِ⚠️ دیں کا سہارا
قیصر ہو کہ دارا ہو کہ جم اُٹھ نہیں سکتا
7
توفیقِ خُداوند سے ہوتی ہے رقم نعت
ساؔجِد سے بغیر قلم ورنہ اُٹھ نہیں سکتا