← شوقِ فراواں
بھاری ہے بہت بار الَم اُٹھ نہیں سکتا
لاغر ہوں میں اے شانِ کرم! اُٹھ نہیں سکتا
کافی ہے مجھے آپؐ کی اِک چشم نَوازِش
اب میرا لکھنے کو ہے دم اُٹھ نہیں سکتا
سرکارؐ! مِرے ضعف کا ہو چارہ خدارا
دِل میرے میں ہے حوصلہ کم اُٹھ نہیں سکتا
تاوقتیکہ آقاؐ کی اجازت نہیں ہوتی
کوئی بھی قدم سوئے حرم اُٹھ نہیں سکتا
میں بمکہ ہوں لاچار مِری کچھنے اِمداد
سر مجھ سے مِرا میرِ الَم اُٹھ نہیں سکتا
جب تک نہ میسر ہو شہِ⚠️ دیں کا سہارا
قیصر ہو کہ دارا ہو کہ جم اُٹھ نہیں سکتا
توفیقِ خُداوند سے ہوتی ہے رقم نعت
ساجدؔ سے بغیر قلم ورنہ اُٹھ نہیں سکتا