نور و سرور

حق سے کرے جو خَلق کو واصِل وہ آپؐ ہیں

جس رُخ پہ ہم روانہ ہیں منزِل وہ آپؐ ہیں

کہتے ہیں راہِ حق ہے، جے راہِ آپؐ کی

کہتے ہیں جِس کو رَہبَرِ کامِل وہ آپؐ ہیں

اُس چشمِ اِلتِفات سے کُھلتے ہیں جاں و دِل

ناقص بھی جِن کے دم سے ہے قابل وہ آپؐ ہیں

جِس نے بُلند پرچم صِدق و یقیں کیا

جِس نے نگوں کیا سرِ باطِل وہ آپؐ ہیں

لب جِن کے ذِکرِ پاک سے عنبر فِشاں ہوئے

دِل جِن کے حُسن کے ہوئے گھائل وہ آپؐ ہیں

ہوتے نہ وہ تو بزمِ مہ و مہر تھی کہاں

جِن سے ہے آب وگُل کی یہ محفِل وہ آپؐ ہیں

ساجد ہے جِن کے واسطے جاں اِضطِراب میں

ہے بے قرار جِن کے لیے دِل وہ آپؐ ہیں