← نور و سرور
1
قلب میرا ہی کہاں آپؐ کا شیدائی ہے
عالَمِ ارض و سما سارا تمنائی ہے
2
اُن کی یادوں کی حَسِیں بزم میں دِل والوں کو
رنج و حِرماں نہ کوئی کُلفَتِ تنہائی ہے
3
اُن کے در پہ ہیں گداعامی و عارِف سارے
کائنات آپؐ کے قدموں میں سمٹ آئی ہے
4
وہ مسیحا ہیں مسیحاؤں کے ‘ اللہ اللہ
اُن کے ہاتھوں سے زمانے نے شفاپائی ہے
5
آپؐ پر حق نے کئے فاش مَعارِف کیا
سارے عالَم پہ مُحیط آپؐ کی دانائی ہے
6
روشنی مہر و قمر کی ہو کہ پھولوں کا جمال
آپؐ کے حُسن کا سب جلوۂ رَعنائی ہے
7
بسکہ دُشوار مِرا آنا یہاں تھا ساؔجِد
اِک کریمانہ نظر کھینچ لے آئی ہے