نور و سرور

اُن سے جو فیض یاب ہوتے ہیں

آدمی لاجواب ہوتے ہیں

دِل ہیں جو اُن کے نُور سے روشن

وہ تخیّم ماہتاب ہوتے ہیں

جو بھی منظور اُس نظر کے ہیں

حق کا وہ انتخاب ہوتے ہیں

ہاتھ اُن کا ہے جن کے ہاتھوں پر

وہ سدا کامیاب ہوتے ہیں

نُور ہوتا نہیں ہر اِک جلوہ

بعض دریا سراب ہوتے ہیں

جن میں شامِل نہیں ہے یادِ نبیؐ

ایسے لمحے عذاب ہوتے ہیں

بخت جن کے بُلند ہیں ساجد

واصفِ آنجنابؐ ہوتے ہیں