← نور و سرور
1
دستِ رحمت کے سہارے پہ اُبھرتے دیکھا
ڈوبنے والے کو ساحل پہ اترتے دیکھا
2
جو گریزاں تھے وہی آپؐ کی جانِب لپکے
دُشمنِ جاں کو بھی آپؐ کا دم بھرتے دیکھا
3
غیر بھی حلقۂ شفقت میں تھے شامِل اُن کے
بیکسوں سے بھی محبت انہیں کرتے دیکھا
4
آپؐ نے بہر دُعا ہاتھ اٹھائے اپنے
سانس پھر لینے لگے وہ جنہیں مرتے دیکھا
5
غیر ممکِن بھی نظر آیا بشکلِ ممکِن
صبح کے رنگ میں شب کو بھی سنورتے دیکھا
6
آپؐ کے در پر زمانے کے جہانگیروں کو
جھولیاں اپنی تمناؤں کی بھرتے دیکھا
7
جو تھا مرغوبِ خُداوند جہاں کو ساؔجِد
چشمِ عالَم نے وہی رنگ نکھرتے دیکھا