← نور و سرور
دستِ رحمت کے سہارے پہ اُبھرتے دیکھا
ڈوبنے والے کو ساحل پہ اترتے دیکھا
جو گریزاں تھے وہی آپؐ کی جانِب لپکے
دشمنِ جاں کو بھی آپؐ کا دم بھرتے دیکھا
غیر بھی حلقۂ شفقت میں تھے شامِل اُن کے
بیکسوں سے بھی محبت انہیں کرتے دیکھا
آپؐ نے بہر دُعا ہاتھ اٹھائے اپنے
سانس پھر لینے لگے، وہ جنہیں مرتے دیکھا
غیر ممکِن بھی نظر آیا بشکل ممکِن
صبح کے رنگ میں شب کو بھی سنورتے دیکھا
آپؐ کے در پر زمانے کے جہانگیروں کو
جھولیاں اپنی تمناؤں کی بھرتے دیکھا
جو تھا مرغوبِ خُداوند جہاں کو ساجد
چشمِ عالَم نے وہی رنگ نکھرتے دیکھا