شوقِ فراواں

دامَنِ دِل کو خُدا ایسی صفائی دیتا

روئے زیبائے نبیؐ مجھ کو دکھائی دیتا

ہوتے فقال⚠️ اَلَیٰ! میری جاں کے بے حواس

اہلِ برزخ کا تھن⚠️ مجھ کو سُنائی دیتا

آپؐ کے نام سے آدم نے خلاصی پائی

کب درودِ اُن پر نہیں غم سے رہائی دیتا

راہ اس در سے فقَط جاتی ہے حق کی جانِب

شاہ کے در پر نہ کیوں دِل کو یہ دھائی⚠️ دیتا

شربتِ وَصل کی کچھ قدر نہ ہوتی ہم کو

گر نہ خالِق ہمیں گاہے گاہے تڑپ دیتا⚠️ دیتا

ہم بغیرِ بندگی شاہ کے کچھ قبول

ربِّ آفاق ہمیں گرچہ خدائی دیتا

میں تو مر جاتا غم و کرب و بلا سے ساجدؔ

حق نہ اس باغ کی گر نغمہ سرائی دیتا