← شوقِ فراواں
1
دامَنِ دِل کو خُدا ایسی صفائی دیتا
روئے زیبائے نبیؐ مجھ کو دکھائی دیتا
2
ہوتے فقال⚠️ اَلَیٰ! میری جاں کے بے حواس
اہلِ برزخ کا تھن⚠️ مجھ کو سُنائی دیتا
3
آپؐ کے نام سے آدم نے خلاصی پائی
کب درودِ اُن پر نہیں غم سے رہائی دیتا
4
راہ اس در سے فقَط جاتی ہے حق کی جانِب
شاہ کے در پر نہ کیوں دِل کو یہ دھائی⚠️ دیتا
5
شربتِ وَصل کی کچھ قدر نہ ہوتی ہم کو
گر نہ خالِق ہمیں گاہے گاہے تڑپ دیتا⚠️ دیتا
6
ہم بغیرِ بندگی شاہ کے کچھ قبول
ربِّ آفاق ہمیں گرچہ خدائی دیتا
7
میں تو مر جاتا غم و کرب و بلا سے ساؔجِد
حق نہ اس باغ کی گر نغمہ سرائی دیتا