← شوقِ فراواں
1
میں کسی روز مدینے کو نکل جاؤں گا
دِل میں لے کر مے مستانہ اجل جاؤں گا
2
جدہ پہنچوں گا بڑتی ہوئی جب آنکھوں سے
سر بسر کیف میں اس وقت میں ڈھل جاؤں گا
3
حرم کعبہ کے جب آئیں گے میرے نظر
طفلِ ناداں کی طرح میں تو مچل جاؤں گا
4
نُور بھر دے گا مِری روح میں کہنے کو جلال
اُن کی آن میں یکسر میں بدل جاؤں گا
5
حق کی تائید سے کہنے کا کروں گا طواف
بِجُز و اِخلاص کے سانچے میں پکل⚠️ جاؤں گا
6
جب حضوریؐ میری سُلطانؐ کے در پر ہو گی
میں بہ صد پاس ادب پلکوں کے بل جاؤں گا
7
ذرہ بن کر میں لپٹ جاؤں گا دار سے ساؔجِد
لے کے دیوان بھی میں زیرِ بغَل جاؤں گا