شوقِ فراواں
1

عرش سے رُتبے میں بالا ہے بہت شانِ رسُول

خود فرشتوں کا ہے سردار بھی دربانِ رسُول

2

اُن کو کچھ خطرہ حریفوں سے نہیں ہے زِنہَار

آپ اللہ کی ہے ذات نِگہبانِ رسُول

3

کون سے گوشۂ عالَم پر نہیں ہے رحمت

کون سے ذرّے پر برسا نہیں اِحسانِ رسُول

4

عمر بھر سرخوش و سَرشار وہ سرمست رہا

پی لیا جس نے بھی اِک جرعۂ عِرفانِ رسُول

5

خُلد و کوثر دیتے اِنعام میں حق اُن کو

غیب کا علم بھی بخشا گیا شایانِ رسُول

6

مُختَصَر گنتی کی تھیں چند ضروری اشیاء

گُل بھی ترکۂ⚠️ یہی گھر میں تھا سامانِ رسُول

7

مال کی حرص ہے ساؔجِد نہ اسے زر کی ہوس

شاد رہتا ہے شب و روز ثناخوانِ رسُول