شوقِ فراواں

عرش سے رُتبے میں بالا ہے بہت شانِ رسُول

خود فرشتوں کا ہے سردار بھی دربانِ رسُول

اُن کو کچھ خطرہ حریفوں سے نہیں ہے زِنہَار

آپ اللہ کی ہے ذات نِگہبانِ رسُول

کون سے گوشۂ عالَم پر نہیں ہے رحمت

کون سے ذرّے پر برسا نہیں اِحسانِ رسُول

عمر بھر سرخوش و سَرشار وہ سرمست رہا

پی لیا جس نے بھی اِک جرعۂ عِرفانِ رسُول

خُلد و کوثر دیتے اِنعام میں حق اُن کو

غیب کا علم بھی بخشا گیا شایانِ رسُول

مُختَصَر گنتی کی تھیں چند ضروری اشیاء

گُل بھی ترکۂ⚠️ یہی گھر میں تھا سامانِ رسُول

مال کی حرص ہے ساجدؔ نہ اسے زر کی ہوس

شاد رہتا ہے شب و روز ثناخوانِ رسُول