← شوقِ فراواں
1
قُربان بدرگاہت کیا دیر لگائی ہے
غم سے ہے یہ بری حالت کیا دیر لگائی ہے
2
ہم درد کے ماروں کو پوچھتے ہے کہاں کوئی
دِل میں ہے یہ غم گلکفت⚠️ کیا دیر لگائی ہے
3
یورش ہے حوادث کی ہیں گمات⚠️ میں دشمن بھی
منظَر ہے بہت اُمت کیا دیر لگائی ہے
4
احوال کے پُرساں ہو تَسکین دِل و جاں ہو
سر تا بقدم رحمت کیا دیر لگائی ہے
5
بے تاب و تواں ہے دِل آلام سے ہے بسمل
طاقت ہے نہ اب ہمت کیا دیر لگائی ہے
6
اِک بَخشِش ابروو کے ارمان ہوں سب پورے
باتی نہ رہے حاجت کیا دیر لگائی ہے
7
اِک آپؐ کے در پر ہے ساؔجِد کا نظر دائم
اِک آپؐ سے ہے نِسبت کیا دیر لگائی ہے