← شوقِ فراواں
قُربان بدرگاہت کیا دیر لگائی ہے
غم سے ہے یہ بری حالت کیا دیر لگائی ہے
ہم درد کے ماروں کو پوچھتے ہے کہاں کوئی
دِل میں ہے یہ غم گلکفت⚠️ کیا دیر لگائی ہے
یورش ہے حوادث کی ہیں گمات⚠️ میں دشمن بھی
منظَر ہے بہت اُمت کیا دیر لگائی ہے
احوال کے پُرساں ہو تَسکین دِل و جاں ہو
سر تا بقدم رحمت کیا دیر لگائی ہے
بے تاب و تواں ہے دِل آلام سے ہے بسمل
طاقت ہے نہ اب ہمت کیا دیر لگائی ہے
اِک بَخشِش ابروو کے ارمان ہوں سب پورے
باتی نہ رہے حاجت کیا دیر لگائی ہے
اِک آپؐ کے در پر ہے ساجدؔ کا نظر دائم
اِک آپؐ سے ہے نِسبت کیا دیر لگائی ہے