شوقِ فراواں

جہاں ہے اصل علیؓ کی روشنی کی پُرشنی ہے

اُنہیؐ کے لُطف و کرم کی چادر تمام آفاق پرشنی ہے

تجلیاں ہیں خُدا کی ساری میں اُن کے صدقے میں عالَم کی واری

ہر اِک تجلی سے دوستی ہے کسی سے رنجش نہ بُغضی ہے

اسیر غم ہوں بھی جبھی کبھی بھی گھر ہوں

نبیؐ نے میری کی منعنانت⚠️ جو جاں پر مِری بنی ہے

ہر ایک اُن کا غلام بوڑھر⚠️ محبتوں کا عجیب پَیکر

یہ لوگ ہوتے ہیں گو کہ زردل اُن کا ہوتا بہت سی ہے

یہی ہے فیضان کی نشانی کرے یہ نِسبت کی ترجمانی

یہ لوح دِل پر جو داغ اُلفت ہے گویا ہیرے کی یہ نگینی ہے

دروود بھیجیں نِیاز مندی سے باتصور سلام بجیجیں⚠️

زبے پَیام و زبے کلام و خوشا یہ رودواد گفتنی ہے

مسافِر راہ مصطفیؐ ہوں میں ہو عمر مِری اسی میں

موثق حق میں جان و دِل سے ہوں میری عزت فروختنی⚠️ ہے