شوقِ فراواں
1

جہاں ہے اصل علیؓ کی روشنی کی پُرشنی ہے

اُنہیؐ کے لُطف و کرم کی چادر تمام آفاق پرشنی ہے

2

تجلیاں ہیں خُدا کی ساری میں اُن کے صدقے میں عالَم کی واری

ہر اِک تجلی سے دوستی ہے کسی سے رنجش نہ بُغضی ہے

3

اسیر غم ہوں بھی جبھی کبھی بھی گھر ہوں

نبیؐ نے میری کی منعنانت⚠️ جو جاں پر مِری بنی ہے

4

ہر ایک اُن کا غلام بوڑھر⚠️ محبتوں کا عجیب پَیکر

یہ لوگ ہوتے ہیں گو کہ زردل اُن کا ہوتا بہت سی ہے

5

یہی ہے فیضان کی نشانی کرے یہ نِسبت کی ترجمانی

یہ لوح دِل پر جو داغ اُلفت ہے گویا ہیرے کی یہ نگینی ہے

6

دروود بھیجیں نِیاز مندی سے باتصور سلام بجیجیں⚠️

زبے پَیام و زبے کلام و خوشا یہ رودواد گفتنی ہے

7

مسافِر راہ مصطفٰؐے ہوں میں ہو عمر مِری اسی میں

موثق حق میں جان و دِل سے ہوں میری عزت فروختنی⚠️ ہے