شوقِ فراواں
1

جس دِل میں ہو یاد مصطفٰؐے کی بود و باش ہے

حِرماں کا داغ اُس پہ نہ غمِ خراش ہے

2

منکر ہے بدنصیب جو شان رسُولؐ کا

مارے کے اُس کے جگر کا ہے پاش پاش ہے

3

جس شخص کی زُباں پہ نہیں نام مصطفٰؐے

یوں خانہ ہے بے چِراغ ہے زِندہ وہ لاش ہے

4

اُن کے کرم سے رات و دِن کتنے خُوشی میں ہیں

کوئی غم جہاں ہے نہ فکر معاش ہے

5

تُجھ ذات اور کوئی نہیں ہے جہاں میں

ہم کیا کہیں یہ راز کیا کس نے فاش ہے

6

جو بھی جمال مست ہے فرخندہ بخت ہے

"افسوس" اُس کے لب پہ ہے کوئی نہ "کاش" ہے

7

ساؔجِد زُباں صاف ہو شیریں⚠️ ذہلی⚠️ ہوئی

شاعر وہی ہے خوب جو مضمون تراش ہے