← نور و سرور
سُلطان ہوئے، امیر ہوئے، مقتدا ہوئے
تخلیقِ کائنات کا وہ مُدّعا ہوئے
وحدت کے بے کنارِ سَمُندر میں آنجنابؐ
مینارِ روشنی کا بحکمِ خُدا ہوئے
اُتِری ہیں فکر و فہم میں حق کی تجلیاں
ہر بات اُن کی نُور وہ نُورِ الہدیٰ ہوئے
میرے حضورؐ ہی کی نظر کا یہ فیض ہے
خود سے جو بے خبر تھے خُدا آشنا ہوئے
وہم و گُماں کی ظُلمتیں کافور ہو گئیں
جلوئے احَدؑ کے نُور کے جب رُونما ہوئے
محبوبِ حق کی صورتِ تاباں کی روشنی
دیکھی جنہوں نے پہلی نظر میں فِدا ہوئے
ساجد، خُدا کا شُکر ہے محبوبِ ذُوالجلال
میرے شفیق و مُونِسِ جاں رہنما ہوئے