نور و سرور
1

سُلطاں ہوئے ‘ امیر ہوئے ‘ مُقتَدا ہوئے

تخلیقِ کائنات کا وہ مُدّعا ہوئے

2

وحدت کے بے کنار سَمندر میں آنجنابؐ

مینار روشنی کا بحکمِ خُدا ہوئے

3

اُتِری ہیں فکر و فہم میں حق کی تجلیاں

ہر بات اُن کی نُور وہ نُورُالہدیٰ ہوئے

4

میرے حضورؐ ہی کی نظر کا یہ فیض ہے

خود سے جو بے خبر تھے خُدا آشنا ہوئے

5

وہم و گُماں کی ظُلمتیں کافور ہو گئیں

جلوے اَحد کے نُور کے جب رُونما ہوئے

6

محبوبِ حق کی صورتِ تاباں کی روشنی

دیکھی جنہوں نے پہلی نظر میں فِدا ہوئے

7

ساؔجِد ‘ خُدا کا شُکر ہے محبوبِ ذُوالجلال

میرے شفیق و مُونِسِ جاں رہنما ہوئے