نور و سرور
1

پَیکر جب آیا سامنے یزداں کے نُور کا

ہر دِل میں کھِل گیا چَمنِستاں سُرور کا

2

بُوجہل کی سِرِشت میں تھیں ظُلمتیں نِہاں

ممکِن نہ تھا وہ دیکھتا نظّارہ نُور کا

3

بہرِ قبولِ عرض وسیلہ اُنھیں کریں

دروازہ وا ہے رحمتِ ربِّ غفور کا

4

اَنوارِ حق میں دُھل گئی ساری یہ کائنات

وقت آیا جب خُدا کے نبیؐ کے ظہور کا

5

دامَن مِری مراد کا رحمت نے بھر دیا

جب بھی پڑھا قصیدہ جمالِ حضورؐ کا

6

اُن کے کمال و حُسن کی باتیں مجھے سنا

قصہ نہ چھیڑ بخت و غِلمان و حور کا

7

ساؔجِد مجھے یقین ہے وہ بخشوَائیں گے

کیوں دِل میں خوف کیجئے یومِ نُشور؟ کا