← نور و سرور
پَیکر جب آلمیل سامنے یزداں کے نُور کا
ہر دِل میں کھِل گیا چمنستانِ سرُور کا
یُوں جبل کی سرشت میں تھیں ظُلمتیں نِہاں
ممکِن نہ تھا وہ دیکھتا نظارہ نُور کا
بہرِ قبولِ عرض وسیلہ اُنہیں کریں
دروازہ وا ہے رحمتِ ربِّ غفور کا
اَنوارِ حق میں ڈھل گئی ساری یہ کائنات
وقت آیا جب خُدا کے نبیؐ کے ظہور کا
دامَنِ مِری مراد کا رحمت نے بھر دیا
جب بھی پڑھا قصیدۂ جمالِ حضورؐ کا
اُن کے کمال و حُسن کی باتیں مجھے سنا
قصہ نہ چھیڑ بخت و غلمان و حور کا
ساجد مجھے یقین ہے وہ بخشوَائیں گے
کیوں دِل میں خوف کیجئے یومِ نشور کا