شوقِ فراواں

رنگ، سیل غم جاں کا بدل جائے تو اچھا

دِل اُن کی عِنایَت سے سنبھل جائے تو اچھا

ہو جائے شب و روز حضوری مجھے حاصل

دِل سے مِرے ارمان یہ نکل جائے تو اچھا

غم نبیؐ کی جاں! میں ہو مِری جاں خُدایا!

یہ شوق کا پودا مِرا پھل جائے تو اچھا

حق سے یہ دُعا ہے کہ زَبُوں حال ہے اُسوہ

اُس میں شہرِ خُسن⚠️ کے ڈھل جائے تو اچھا

کرنی ہے آپؐ کی خِدمت میں گزارش

حاضِر ہو مگر پاکوں کے بل⚠️ جائے تو اچھا

سرکار نے تعلیم ہمیں یہ کی دی ہے

طوفانِ بد اندیشوں کا گُل⚠️ جائے تو اچھا

دِل میرا ہے تنہائی کا مارا ہوا ساجدؔ

آغوش میں رحمت کے یہ بل⚠️ جائے تو اچھا