← شوقِ فراواں
1
رنگ، سیل غم جاں کا بدل جائے تو اچھا
دِل اُن کی عِنایَت سے سنبھل جائے تو اچھا
2
ہو جائے شب و روز حضوری مجھے حاصل
دِل سے مِرے ارمان یہ نکل جائے تو اچھا
3
غم نبیؐ کی جاں! میں ہو مِری جاں خُدایا!
یہ شوق کا پودا مِرا پھل جائے تو اچھا
4
حق سے یہ دُعا ہے کہ زَبُوں حال ہے اُسوہ
اُس میں شہرِ خُسن⚠️ کے ڈھل جائے تو اچھا
5
کرنی ہے آپؐ کی خِدمت میں گزارش
حاضِر ہو مگر پاکوں کے بل⚠️ جائے تو اچھا
6
سرکار نے تعلیم ہمیں یہ کی دی ہے
طوفانِ بد اندیشوں کا گُل⚠️ جائے تو اچھا
7
دِل میرا ہے تنہائی کا مارا ہوا ساؔجِد
آغوش میں رحمت کے یہ بل⚠️ جائے تو اچھا