ذوقِ جمال
1

لے کے عصیاں کا بار پھرتے ہیں

انؐ سے ہم شرمسار پھرتے ہیں

2

ایک سے ایک برڈ⚠️ اُن کے غلام

ماہ اندر کنارِ⚠️ پھرتے ہیں

3

اُن کی گلیوں میں قیصر و سُلطان

رات دِن بے شُمار پھرتے ہیں

4

دستِ رحمت اُنہیں بچا لایا

وہ جو ساحل کے پار پھرتے ہیں

5

یا نبیؐ! اِک نِگاہِ لُطف و کرم

ہم بہت بے قرار پھرتے ہیں

6

آسمان و زمین پر ہر سُو

آپؐ کے جاں نثار پھرتے ہیں

7

اِک ذرا اِنتظار، اے ساؔجِد!

تیرے لیل و نہار پھرتے ہیں