نور و سرور
1

نبیؐ کے جِسم کی خُوشبو ہے بَطحا کی ہواؤں میں

اُنہی کے حُسن کے ہیں رنگ پھولوں کی قباؤں میں

2

غلامانِ محمدؐ کو یُونہی مت دیکھ بے ساماں

قِیامت کا لیے سامان بیٹھے ہیں نَواؤں میں

3

وسیلے سے نبیؐ کے مانگ جو ہے مانگنا تُجھ کو

قبولیت کا ہے جوہر نِہاں ایسی دعاؤں میں

4

جھڑی اشکوں کی ہے آلام میں پیغامِ رحمت کا

چُھپے ہوتے ہیں موتی قیمتی کالی گھٹاؤں میں

5

محمدؐ کی گلی کے ہیں بِھکاری رومیؒ و جامیؒ

سلاطینِ زمانہ ہیں سبھی ان کے گداؤں میں

6

بصدقِ اِخلاص اُن کے در پہ دامانِ طلب پھیلا

سَمُندر ہیں سخا کے موجزن اُن کی عطاؤں میں

7

جو ہو لُطف و عِنایَت کی نظر مسکینِ ساؔجِد پر

شُمار اِس کا بھی ہو سُلطانؐ کے مِدحت سراؤں میں