شوقِ فراواں
1

اے خُدا گر نہ ہو دِل پہ یہ پریشاں ذِکر خُدا

مِیرے لب ہرگِز نہ ہوں ساغَرِ خُدا

2

میں تَصوُّر میں نبیؐ کو رات دِن دیکھا کروں

سرِ نہ ہو مِیرا اِلٰہی ! آپؐ کے در سے خُدا

3

اِک گھڑی اُس کی جاں بھی نہیں جو مجھے گوارا ہے

دِل رہے دیرِ شعر اور حیرتِ ذرِ⚠️ خُدا

4

حالِ دِل اُس کا ہے یوں بیجا نہ بیجا نہیں

کسی بیمار مریض⚠️ بیچارے کا اشارہ خُدا

5

وہ اَلطافِ میں ہے فانی یہ ساختاند⚠️ ہے غم

بندہ حق کا ہے سراسر بندہ زر سے خُدا

6

ذرّہ تھا اور ہمدوش ہوا تھا تیرا گیا

جب ہوا توفیقِ حق سے شِرکِ سر کے لشکر خُدا

7

حضرتِ فاروقؑ کا مجھ پر بڑا اِحسان ہے

یہ نہیں ممکِن کہ ساؔجِد ہو سر تاج ہو سرِ خُدا