← شوقِ فراواں
اے خُدا گر نہ ہو دِل پہ یہ پریشاں ذِکر خُدا
مِیرے لب ہرگِز نہ ہوں ساغَرِ خُدا
میں تَصوُّر میں نبیؐ کو رات دِن دیکھا کروں
سرِ نہ ہو مِیرا اِلٰہی ! آپؐ کے در سے خُدا
اِک گھڑی اُس کی جاں بھی نہیں جو مجھے گوارا ہے
دِل رہے دیرِ شعر اور حیرتِ ذرِ⚠️ خُدا
حالِ دِل اُس کا ہے یوں بیجا نہ بیجا نہیں
کسی بیمار مریض⚠️ بیچارے کا اشارہ خُدا
وہ اَلطافِ میں ہے فانی یہ ساختاند⚠️ ہے غم
بندہ حق کا ہے سراسر بندہ زر سے خُدا
ذرّہ تھا اور ہمدوش ہوا تھا تیرا گیا
جب ہوا توفیقِ حق سے شِرکِ سر کے لشکر خُدا
حضرتِ فاروقؑ کا مجھ پر بڑا اِحسان ہے
یہ نہیں ممکِن کہ ساجدؔ ہو سر تاج ہو سرِ خُدا