شوقِ فراواں
1

دِلِ مِرا روشن خُدایا! اُس رُخِ زیبا سے ہو

کشفِ⚠️ جاں سیراب میری لُطفِ دریا سے ہو

2

شاہِؐ عالَم کے عِرق⚠️ سے عطر و عنبر فیض یاب

عودِ کی خوشبوئے اُنہیؐ کے گیسوئے دوتا⚠️ سے ہو

3

جینی⚠️ جینی نکہتِ گلبہت⚠️ تگہتِ نگہتِ⚠️ ریحاں کی طرح

یہ عجب جاں بخش خُوشبو آپؐ کے صَحرا سے ہو

4

مُعطٰی و قائم ہیں دوڑ پہ ہاتھ اُن کا ایک ہے

اِک زُباں پر بات ناطقِ حق سے اور آقاؐ سے ہو

5

آپؐ کا ہر قول مشتائے⚠️ خُدائے پاک ہے

آپؐ کا ہر فعل بھی اللہ کے ایما سے ہو

6

منزِل ہو تو تک رسائی ہے میسّر آپؐ کو

مِل جہاں کی رہنمائی اُن کے نقشِ پا سے ہو

7

خِردِ درویش سے اُس کی کوئی نِسبت نہیں

گو قبا سُلطاں کی ساؔجِد بے بہا دیا سے ہو