← شوقِ فراواں
دِلِ مِرا روشن خُدایا! اُس رُخِ زیبا سے ہو
کشفِ⚠️ جاں سیراب میری لُطفِ دریا سے ہو
شاہِؐ عالَم کے عِرق⚠️ سے عطر و عنبر فیض یاب
عودِ کی خوشبوئے اُنہیؐ کے گیسوئے دوتا⚠️ سے ہو
جینی⚠️ جینی نکہتِ گلبہت⚠️ تگہتِ نگہتِ⚠️ ریحاں کی طرح
یہ عجب جاں بخش خُوشبو آپؐ کے صَحرا سے ہو
مُعطٰی و قائم ہیں دوڑ پہ ہاتھ اُن کا ایک ہے
اِک زُباں پر بات ناطقِ حق سے اور آقاؐ سے ہو
آپؐ کا ہر قول مشتائے⚠️ خُدائے پاک ہے
آپؐ کا ہر فعل بھی اللہ کے ایما سے ہو
منزِل ہو تو تک رسائی ہے میسّر آپؐ کو
مِل جہاں کی رہنمائی اُن کے نقشِ پا سے ہو
خِردِ درویش سے اُس کی کوئی نِسبت نہیں
گو قبا سُلطاں کی ساجدؔ بے بہا دیا سے ہو