حرفِ نیاز

دِلِ حَزیں کو خُوشی کا پَیام آیا ہے

مِری زُباں پہ محمدؐؐ کا نام آیا ہے

سرُور کیف سے مدہوش دِل کی دُنیا ہے

ضرور دِل کو جوابِ سلام آیا ہے

تَصوُّر آپؐ کا ہے زِندگی کا سرمایہ

خِیالِ آپؐ کا مشکل میں کام آیا ہے

لکھا گیا غمِ خواجہ مِرے مُقدّر میں

مِرے نصیب میں سوزِ تمام آیا ہے

نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجدؔ

نظر جھکا درِ خیرُالانام آیا ہے