← نور و سرور
1
حُسن کے نُور کا ڈیرا ہوتا
میرے دِل میں بھی سویرا ہوتا
2
ذات اُن کی ہے چِراغِ عالَم
وہ نہ آتے تو اندھیرا ہوتا
3
یہ بِیاباں بھی خیاباں ہوتے
اُن کا اِس سِمت بھی پھیرا ہوتا
4
آج اِس راہ سے وہ گزریں گے
گھر اِسی راہ میں میرا ہوتا
5
کتنی اچھی میری حالت ہوتی
کاش بَطحا میں بسیرا ہوتا
6
غم ہے آج اُن کا زیادہ اے کاش
ابر کچھ اور گھنیرا ہوتا
7
نعت کا فیض ہے ساؔجِد ورنہ
تُجھ کو آلام نے گھیرا ہوتا