نور و سرور
1

بارگاہِ جمال کی باتیں

جلوۂ بے مِثال کی باتیں

2

جو ہوئیں عرش پر شبِ مِعراج

کون جانے وِصال کی باتیں

3

کوئی عالی نظر ہی سمجھائے

اُن کے اوج و کمال کی باتیں

4

سر بسر جذب و شوق ‘ سوز و گُداز

عِشق و مَستی بلالؓ کی باتیں

5

حسب "خیر الامور اوسطہا"

خُوب ہیں اعتدال کی باتیں

6

ہم پہ لازم ہے با ادب ہو کر

ہم کریں اُن کی آلؑ کی باتیں

7

اُن کے در پر سناؤں گا ساؔجِد

اِس دِلِ پُرملال کی باتیں