نور و سرور

لفظ سے جلوۂ معنیٰ ہے عَیاں

روشنی اُن سے خُدا کی ہے عَیاں

مرحبا، آپؐ کلّی نُوری پَیکر

اسمِ اعظم کی شکیبی ہے عَیاں

ہر کسی پر ہے نَوازِش اُن کی

آپؐ کی شانِ کریمی ہے عَیاں

ہر گھڑی لب پہ ہے نامِ نبیؐ

رحمتِ اِیزَدِ باری ہے عَیاں

آج کل حالِ ہے ابتر دِل کا

رنج و غم اور اداسی ہے عَیاں

آپؐ کا حُسن یہاں ہو کیسے

آپ ہیں شانِ اِلٰہی ہے عَیاں

اب تو ساجد پہ خصوصی ہو کرم

اِس کے اب چہرے سے پیری ہے عَیاں