← نور و سرور
1
جب طبیعت مِری گھبراتی ہے
یاد اُن کی اِسے بہلاتی ہے
2
روشنی بزم کی ہوتی ہے فزوں
بات جب آپؐ کی چھِڑ جاتی ہے
3
جانے کب اِذنِ حضوری ہو گا
چین آتا ہے نہ نیند آتی ہے
4
یاد میں اُن کی جو بھر آئے آنکھ
پھر وہ برسات سی برساتی ہے
5
آپؐ کے فیضِ نظر کے ہر دم
جانِ شاداں مِری ہو جاتی ہے
6
کوئی بھی ذِکر نہیں راحَتِ جاں
بات سرکارؐ کی اِک بھاتی ہے
7
دیکھ کر زائرِ بَطحا ساؔجِد
دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے