نور و سرور

جب طبیعت مِری گھبراتی ہے

یادِ اُن کی اسے بہلاتی ہے

روشنی بزمِ کی ہوتی ہے فزوں

بات جب آپؐ کی چھِڑ جاتی ہے

جانے کب اِذنِ حضوری ہو گا

چین آتا ہے نہ نیند آتی ہے

یادِ میں اُن کی جو بھر آئے آنکھ

پھر وہ برسات سی برساتی ہے

آپؐ کے فیضِ نظر کے ہر دم

جانِ شاداں مِری ہو جاتی ہے

کوئی بھی ذِکر نہیں راحَت جاں

بات سرکارؐ کی اِک بھاتی ہے

دیکھ کر زائرِ بَطحا ساجد

دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے