← نور و سرور
1
پیشِ نظر ہمیشہ شہِؐ خُوب رُو رہے
دِل میں لہو رہے نہ رہے آرزو رہے
2
پھرتا رہوں تلاش میں حق کی میں رات دِن
ہنگامِ شام ہو کہ سحر ‘ جُستجو رہے
3
گر ذِکر ہو تو شانِ محمدؐ کا ذِکر ہو
اِن کے کرم کے سلسلے کی گفتگو رہے
4
آفاق کی زُباں پہ ہو نامِ رسُولِؐ پاک
روشن چِراغِ شوقِ نبیؐ چار سُو رہے
5
ہر ایک پھول آلؑ کا کھِلا رہے
ہر شاخسارِ باغِ نبیؐ پُرنمو رہے
6
یادِ رسُولؐ دِل میں مِرے یُوں مکیں رہے
جیسے قمر میں نُور ‘ گُلوں میں رنگ و بو رہے
7
ساؔجِد کے سر پہ سایۂ رحمت مُدام ہو
یہ سُرخرو رہے ‘ سدا با آبرو رہے