نور و سرور

پیشِ نظر ہمیشہ شبیہِ خوب رُو رہے

دِل میں لہو رہے نہ رہے آرزو رہے

پھرتا رہوں تلاش میں حق کی رات دِن

ہنگامِ شام ہو کہ سحر، جُستجو رہے

گر ذِکر ہو تو شانِ محمدؐؐ کا ذِکر ہو

اِن کے کرم کے سلسلے کی گفتگو رہے

آفاق کی زُباں پہ ہو نامِ رسُولِؐ پاک

روشن چِراغِ شوقِ نبیؐ چار سُو رہے

ہر ایک پھول آل کا کھِلا رہے

ہر شاخسارِ باغِ نبیؐ پُرنمو رہے

یادِ رسُولؐ یُوں رہے دِل میں مِرے تمکیں

جیسے قمر میں ضَو، گلوں میں رنگ و بو رہے

ساجد کے سر پہ سایۂ رحمت مُدام ہو

یہ سُرخرو رہے، سدا با آبرو رہے