← نور و سرور
حضورِ شاہؐ قصیدۂ جمال کا گاؤں
نَوائے خاص فرشتوں کی بزم سے لاؤں
بُلند فکر ہی رہتے ہیں اُن کی سوچ میں گم
میں پیتِ فکرِ حقیقت کو اُن کی کیا پاؤں
مَقامِ اُن کا فقَط جانتی ہے ذاتِ خُدا
نہیں ہے مجھ سے یہ ممکِن کسی کو سمجھاؤں
کوئی سبیل نے شہرِ مصطفیٰؐ دیکھوں
میں اُن کی راہگزاروں پہ پھول برساؤں
نہ آؤں شہرِ نبیؐ سے اگر ہو بس میں مِرے
وہیں کا ہو کے رہوں میں اگر وہاں جاؤں
اگر خبر یہ ملے عرض ہے قبول مِری
میں اِس خُوشی میں کروں رقص اور لہراؤں
خُدا نصیب یہ عز و شرف کرے ساجد
میں اُن کے شہر کا ادنیٰ فقیر کہلاؤں