← نور و سرور
1
حضورِ شاہؐ قصیدہ جمال کا گاؤں
پَیامِ خاص فرشتوں کی بزم سے لاؤں
2
بُلند فکر ہی رہتے ہیں اُن کی سوچ میں گُم
میں پست فکر حقیقت کو اُن کی کیا پاؤں
3
مَقام اُن کا فقَط جانتی ہے ذاتِ خُدا
نہیں ہے مجھ سے یہ ممکِن کسی کو سمجھاؤں
4
کوئی سبیل بنے شہرِ مصطفٰیؐ دیکھوں
میں اُن کی راہگزاروں پہ پھول برساؤں
5
نہ آؤں شہرِ نبیؐ سے اگر ہو بس میں مِرے
وہیں کا ہو کے رہوں میں اگر وہاں جاؤں
6
اگر خبر یہ ملے عرض ہے قبول مِری
میں اِس خُوشی میں کروں رقص اور لہراؤں
7
خُدا نصیب یہ عز و شرف کرے ساؔجِد
میں اُن کے شہر کا ادنیٰ فقیر کہلاؤں