شوقِ فراواں
1

مشقِ برزخ کی اِطاعَت میں ہیں سرگرم کرتے ہیں

سیرِ جلووں کی نگاہی سروِ لب⚠️ کرتے ہیں

2

جو ہوئے دیں کی اِطاعَت میں ہیں سرگرم سدا

نُورِ کی موج رواں سے وہ وضو کرتے ہیں

3

یہ جنائیں⚠️ در سرکارؐ پہ لے جاتی ہیں

یہ بھلا ہم سے ہمارے ہی عَدُوّ کرتے ہیں

4

آپؐ کے نام سے کرتے ہیں ہم ہر غم کا عِلاج

لُطفِ کے تار سے ہم چاک رفو کرتے ہیں

5

چار سُو جن کی نظر میں ہیں خُدا کے اَنوار

وہ کہاں فرق میانِ من و تو کرتے ہیں

6

اُن پر کھُل جاتے ہیں اُن کے آسرار و رموز بطن

اپنا دِلؔ⚠️ آپؐ کی خاطِر جو لہو کرتے ہیں

7

ذِکرِ خاموش فقَط کام ہمارا ساؔجِد

ہائے ہم کارِ مجلل⚠️ میں نہ ہو کرتے ہیں