شوقِ فراواں
1

آتا ہے نظر دیکھیں جو ہم دِل کی نظر سے

ہے حق کی عطا جو بھی ملا آپؐ کے در سے

2

واصِل ہوئے اللہ سے ہے سب آپؐ کے در سے

آتی ہے طَیَّبہ وَصل کی ضِیا قمر کے در سے

3

کھل جاتے ہیں اِک آن میں باطِن کے درچے⚠️

اللہ کے محبوبؐ کے اِک لُطف نظر سے

4

عظمت پہ فِدا ہوتے ہیں یاقوت و جواہر

عظمت کو مجبت ہے کہاں گوہر و زر سے

5

کثرت سے درود آپؐ پہ تم⚠️ پڑھ کے دیکھو

پھر دیکھنا کیا ہوتا نہیں اس کے اثر سے

6

اللہ کی یہ دینؐ محبت شاہؐ دین کی

بلتا نہیں گوہر بھی یہ سبھی علم و ہنر سے

7

ہم شاہؐ وِلایت پہ فِدا دِل سے ہیں ساؔجِد

ہاتھ آئی یہ دولت ہمیں اللہ کے گھر سے