← شوقِ فراواں
1
خُوش رہتے ہیں ہم شام و سحر اُسی سے
پھر آنے کو ہم جاتے ہیں اللہ کے گھر سے
2
اللہ عطا کرتا ہے ہے سب نعتیں ہم کو
ملتی ہیں ہمیں وہ شہرِ⚠️ لولاک کے در سے
3
رونق ہے مدینے کی گلی کوچوں میں
ظاہر ہے خُوشی عید کی ہر شام و سحر سے
4
سہانکا⚠️ ہر گُل چنتستاں⚠️ باداماں⚠️
گذری⚠️ ہے مدینے کی ہوا باغ مدینے کی ادھر سے
5
وہ طوف و زیارت کے طَرَب ناک زمانے
وابستہ جو نظارے ہیں دامان نظر سے
6
یہ روشنیاں کس رُخ تاباں کی ضِیا ہیں
پوچھتے⚠️ ہیں یہ کوئی بات ذرا رنش⚠️ و قمر سے
7
اللہ عطا اُس کو کرے نعمت دارین
ساؔجِد نے سیکھا ہے جس⚠️ نے بنر⚠️ اہل ہنر سے