شوقِ فراواں

ہوتی ہیں منزلیں کئی طے ایک گام سے

بڑھتا ہے شوق قُرب خُدا کے طواف سے

بُرزخ میں بھی رسُولؐ نظر نہیں ملتا نہیں چاہتا نہیں

بُرزخ میں بھی رسُولؐ نظر لاش⚠️ نہیں اختلاف سے

پہچان ہو رسُولؐ کی کامِل کہاں نصیب

حیراں ہے عقل اِک ذرا سے انکشاف سے

خَلوت میں ذِکر و فکر اور ذہن کا پچھا⚠️ کچھ

کھٹتے ہیں دِل کے عُقدے کئی اعتکاف سے

ہوتی ہیں منزلیں کئی طے ایک گام سے

بڑھتا ہے شوق قُرب خُدا کے طواف سے

یارب ب⚠️ نام مصطفیؐ بنا ہو دِل کی آنکھ

کچھ بھی چھپی رہے نہ حِجاب و غلاف سے

برزخ میں بھی رسُولؐ ہیں نگاہباں⚠️

لاشک⚠️ ہے اختلاف ہمیں اختلاف سے