شوقِ فراواں
1

جیسے وابستہ گُل و خار کسی گلش⚠️ سے

نیک و بد لپٹے ہیں رحمت کے کھلے⚠️ دَاسَن⚠️ سے

2

نام لیوا ہیں شہرِ⚠️ خدم خدم⚠️ کا انجم کے

ہم کو رہبار⚠️ نہیں خدشہ کوئی رہزن سے

3

رحمتیں گرتی میں آئیں آوج⚠️ عرش سے

جب بھی آتی ہیں ہمیں وہ شہرِ⚠️ لولاک کے در سے

4

رحمتیں گری میں آئیں اوج عرش سے

جب بھی نُوری بدن کی ہے جِسم میں جِسم

5

لی مع اللہ کے مقامات تک پہنچا ہے کون

شان اُن کی ہے بہت آگے حد اِدراک سے

6

آپؐ خود دیتے ہیں رحمت سے ہمبرا⚠️ کا جواب

جو درود اُن کو پہنچا ہے دِلِ غم ناک سے

7

یہ روشنیاں کس رُخِ⚠️ تاباں کی ضِیا ہیں

پوچھتے یہ کوئی بات ذرا شمس⚠️ و قمر سے

8

زمرہ⚠️ خواصِ⚠️ میں ہوائیں ساؔجِد اُن کے شوق میں

آئے خُوشبو خُلد کی آقاؐ کی آقاؐ کی خاک سے