شوقِ فراواں
1

کوئی ہرگِز نہیں خیرُ البشرؐ سے آگے

سیّدِ سرُورِ دیں سب میں سے آگے

2

حق تعالیٰ سے ہوا ہوا نبیؐ جب سے خُدا

کھل گیا سلسلہ لِپٹا ہوا سے آگے

3

عمر کے بعد بھی گھٹتا ہے غم ڈھیر طرح سے

دِل جلاتا ہے غمِ دبیر⚠️ طَرَب سے آگے

4

گہرے غاروں میں گرا خائب و خاسر ہو کر

عِشق میں بھی گیا حدِّ ادب سے آگے

5

آپؐ نے فیض بہت انہیں بخشا لاریب

چلے بھی آئے نبیؐ میرے عرب سے آگے

6

پیش از عرش درود اُن پر میں پڑھتا ہوں سدا

یوں دُعا ہوتی ہے مقبول طلب سے آگے

7

آپؐ کے نُور سے موجُود ہے عالَم ساؔجِد

خَلق میں کون تھا تلقین⚠️ لقب سے آگے