شوقِ فراواں

کوئی ہرگِز نہیں خیرُ البشرؐ سے آگے

سیّدِ سرُورِ دیں سب میں سے آگے

حق تعالیٰ سے ہوا ہوا نبیؐ جب سے خُدا

کھل گیا سلسلہ لِپٹا ہوا سے آگے

عمر کے بعد بھی گھٹتا ہے غم ڈھیر طرح سے

دِل جلاتا ہے غمِ دبیر⚠️ طَرَب سے آگے

گہرے غاروں میں گرا خائب و خاسر ہو کر

عِشق میں بھی گیا حدِّ ادب سے آگے

آپؐ نے فیض بہت انہیں بخشا لاریب

چلے بھی آئے نبیؐ میرے عرب سے آگے

پیش از عرش درود اُن پر میں پڑھتا ہوں سدا

یوں دُعا ہوتی ہے مقبول طلب سے آگے

آپؐ کے نُور سے موجُود ہے عالَم ساجدؔ

خَلق میں کون تھا تلقین⚠️ لقب سے آگے