← شوقِ فراواں
1
آپؐ کے نام نے وہ لُطف ہے بخشا ہم کو
زِندگی لکّی⚠️ ہے اب کیف سراپا ہم کو
2
شُکرِ حق گردِ ہمارے ہے درودوں کا حِصار
کوئی اندیشہ نہ کھٹکا ہے نہ دھڑکا ہم کو
3
حقِّ محبوبؐ نے ہر اِک کے کیا نِقاب اُٹھائے
مُختَصَر راہبرِؐ حق کا دکھایا ہم کو
4
غیر بھی آپؐ کو کہتے ہیں امیں اور صادِق
مِہربان ایسا دیا حق نے ہے آقا ہم کو
5
ماہ کامِل کا ہمیں اُس پر شبہ پڑتا ہے
آئے تارا جو نظر داغ ولا کا ہم کو
6
اُن کی خُوشبو میں سدا ڈوبے ہوئے ہم رہتے
کاش مل جاتا ذرا اُن کا پینا⚠️ ہم کو
7
حق کی تحریر میں خوبی ہے سراسر ساؔجِد
کچھ بھی ناخوب نظر آیا نہ لکھا ہم کو