جانِ جہاں

نعت ہے لب پہ مِرے، شُکر ہے، فریاد نہیں

غم کی رُوداد نہیں، شکوۂ بیداد نہیں

جب سے ہے نامِ نبی ﷺ میری زُباں پر، واللہ

مضطرب روح نہیں، دِل میرا ناشاد نہیں

للہ الحمد، خِیالِ آپ ﷺ کا ساتھی ہے مِرا

خوفِ رہزن کا نہیں، خطرۂ صیّاد نہیں

دِل ہے جو محوِ نبی ﷺ سرخوش و سَرشار ہے وہ

ورنہ آلام سے انساں کوئی آزاد نہیں

جب سے ہے دِل میں مکیں یادِ شاہِ ﷺ والا کی

دِل رہا ہو بھی غمگیں، یہ مجھے یاد نہیں

دِل وہ پُر ہول کھنڈر ہے کسی دیوانے کا

شاہِ ﷺ ابرار کی اُلفت سے جو آباد نہیں

مُختَصَر اُن کے کرم پر ہے پہنچنا اُن تک

ساجدؔ اس راہ میں کچھ حجّتِ فریاد نہیں