← جانِ جہاں
یا نبی ﷺ! ہے نظر کی بلقار⚠️ حکیم، الغِیَاث
اہلِ پاکستان کا دِل ہے سخت برہم، الغِیَاث
رات دِن چرخ کے پہ چرخے دے رہا ہے اب عَدُوّ
زخمِ دِل پر چاہیے رحمت کا مرہم، الغِیَاث
آپ ﷺ ہی واحد سہارا اُمّتِ مسلم کا ہیں
کوئی بھی ہے آشنا اپنا نہ محرم، الغِیَاث
آپ ﷺ کے لُطف و عِنایَت کی نظر درکار ہے
راہ ہے دُشوار، ناہموار، پُرخم، الغِیَاث
فاصلے احساسِ دُوری کے مٹیں گے کب حضور ﷺ
کھا گیا قلب و جگر کو زہر کا غم، الغِیَاث
رحم فرما اے خُدا! آلِ عبا کے واسطے
ہم پہ ہو رحمت بنامِ غوثِ اعظم، الغِیَاث
سر پہ ساجدؔ کے رکھیں دستِ نَوازِش اے کریم!
اب نہ دیکھا جائے اُس کا زورِ پُر غم، الغِیَاث