← جانِ جہاں
حق کی تعظیم کو کتنے ہی پیغمبر آئے
کون اُس سرُورِ عالَم ﷺ کے برابر آئے
دِل کے داماں مرادوں سے وہ بھر کر لائے
جو گداسیّدِ⚠️ لولاک ﷺ کے در پر آئے
سر بسر حق کی تخلیق ہے خُدا کا محبوب
شکلِ انساں کی جو اوڑھے ہوئے چادر آئے
غم کے ماروں کو کیا ایک نظر میں خوشحال
بحرِ اغیار بھی اُلفت کا وہ پَیکر آئے
حُسن کے رُعب سے سقّار⚠️ اڑے بن کے دھواں
کمبر⚠️ سے بن کے جو طوفاں سَمُندر آئے
دیکھتے ہی رُخِ محبوبِ خُدا ﷺ کے جَلوے
کھو گئے طُور میں جو صورتِ آذر آئے
اُن کے آگے نہ چلی بات کسی کی ساجدؔ
سامنے آپ ﷺ کے لاکھوں ہی سخنور آئے