جانِ جہاں
1

حق کی تعظیم کو کتنے ہی پیغمبر آئے

کون اُس سرُورِ عالَم ﷺ کے برابر آئے

2

دِل کے داماں مرادوں سے وہ بھر کر لائے

جو گداسیّدِ⚠️ لولاک ﷺ کے در پر آئے

3

سر بسر حق کی تخلیق ہے خُدا کا محبوب

شکلِ انساں کی جو اوڑھے ہوئے چادر آئے

4

غم کے ماروں کو کیا ایک نظر میں خوشحال

بحرِ اغیار بھی اُلفت کا وہ پَیکر آئے

5

حُسن کے رُعب سے سقّار⚠️ اڑے بن کے دھواں

کمبر⚠️ سے بن کے جو طوفاں سَمُندر آئے

6

دیکھتے ہی رُخِ محبوبِ خُدا ﷺ کے جَلوے

کھو گئے طُور میں جو صورتِ آذر آئے

7

اُن کے آگے نہ چلی بات کسی کی ساؔجِد

سامنے آپ ﷺ کے لاکھوں ہی سخنور آئے