← نور و سرور
دِلِ حَزیں کو خُوشی کا پَیام آیا ہے
مِری زُباں پہ محمدؐؐ کا نام آیا ہے
سُرور و کیف سے مدہوش دِل کی دُنیا ہے
ضرور دِل کو جوابِ سلام آیا ہے
مِرے حضورؐ کا ہے ذِکر مِرے دِل کا قرار
خِیال آپؐ کا مشکل میں کام آیا ہے
ہے نامِ آپؐ کا جامِ جہاں نَما گویا
وہ خُوش نصیب ہیں جن تَک وہ جام آیا ہے
در رسُولؐ سے پائی ہے زِندگی نے بہار
وہاں سے لُٹمِ غم، شادِ کام آیا ہے
خُدا نہیں ہے مگر وہ جُدا خُدا سے نہیں
بشر کی شکل میں نُورِ تمام آیا ہے
نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجد
نظر جھُکا، درِ خیرُالانام آیا ہے