نور و سرور
1

دِلِ حَزیں کو خُوشی کا پَیام آیا ہے

مِری زُباں پہ محمدؐ کا نام آیا ہے

2

سُرور و کیف سے مدہوش دِل کی دُنیا ؟ہے

ضرور دِل کو جوابِ سلام آیا ہے

3

مِرے حضورؐ کا ہے ذِکر مِرے دِل کا قرار

خِیال آپؐ کا مشکل میں کام آیا ہے

4

ہے نام آپؐ کا جامِ جہاں نَما گویا

وہ خُوش نصیب ہیں جن تَک وہ جام آیا ہے

5

در رسُولؐ سے پائی ہے زِندگی نے بہار

وہاں سے کُشتہِ غم ‘ شاد کام آیا ہے

6

خُدا نہیں ہے مگر وہ جُدا خُدا سے نہیں

بشر کی شکل میں نُورِ تمام آیا ہے

7

نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساؔجِد

نظر جھُکا ‘ درِ خیرُالانامؐ آیا ہے