شوقِ فراواں
1

بہت آفاق کا بیدار تھا مِعراج کی شب

گُل جہاں دامَنِ گُلزار تھا مِعراج کی شب

2

کوئی بیلا⚠️ تھا کہ کہسار تھا مِعراج کی شب

لعل و گوہر کا وہ انبار تھا مِعراج کی شب

3

آپ ہی جانِ جہاں آپ ہی زوجِ ایمان

کھل گیا رازِ بکرہ⚠️ دار تھا مِعراج کی شب

4

انبھ⚠️ گیا آنکھ سے مخلوق کی صد شُکرِ خُدا

وہ جو اِک پردۂ آسرار تھا مِعراج کی شب

5

کیا حَسِیں گوہرِ شہوار⚠️ تھا مِعراج کی شب

کثرتِ طُور سے اِک عام خَذف ریزہ بھی

6

مرحبا سیّد و سرُور کی سواری کے لیے

طُور کا توسنِ ہشیار تھا مِعراج کی شب

7

حق نے محبوب کو ہر چیز عطا کی ساؔجِد

کرمِ اَلطاف کا بازار تھا مِعراج کی شب