شوقِ فراواں

بخشِ⚠️ سیاہِ لُطفِ نبی سے بدل گیا

دِلِ مضمحل تھا اُن کے کرم سے کھل گیا

منزِل بدی کی اُس کو بفضلِ خُدا ملی

جو مصطفیٰ کے اُسوۂ کامِل میں ڈھل گیا

ہے فیضِ اِلتِفات یہ میرے حضور کا

کانٹا جو میرے دِل میں چھپا تھا نکل گیا

تاثیر ہے تمام یہ ذِکرِ رسُول کی

سنوکھا⚠️ جو پیڑ تھا پھر سے وہ پھل گیا

مِعراج کی جو اُس نے سنی خاص داستاں

مارے حد کے سُن کے ابو جہل⚠️ کھل گیا

دشمن نے سنی لاکھ کی میں سر کے مل کروں

شُکرِ خُدا! میں نامِ نبی سے سنبھل گیا

ساجدؔ جو باادب ہے وہی باانصیب⚠️ ہے

جو بے ادب ہے رایگاں اُس کا عمل گیا