← شوقِ فراواں
1
بخشِ⚠️ سیاہِ لُطفِ نبی سے بدل گیا
دِلِ مضمحل تھا اُن کے کرم سے کھل گیا
2
منزِل بدی کی اُس کو بفضلِ خُدا ملی
جو مُصطفٰؐے کے اُسوۂ کامِل میں ڈھل گیا
3
ہے فیضِ اِلتِفات یہ میرے حضور کا
کانٹا جو میرے دِل میں چھپا تھا نکل گیا
4
تاثیر ہے تمام یہ ذِکرِ رسُول کی
سنوکھا⚠️ جو پیڑ تھا پھر سے وہ پھل گیا
5
مِعراج کی جو اُس نے سنی خاص داستاں
مارے حد کے سُن کے ابو جہل⚠️ کھل گیا
6
دشمن نے سنی لاکھ کی میں سر کے مل کروں
شُکرِ خُدا! میں نامِ نبی سے سنبھل گیا
7
ساؔجِد جو باادب ہے وہی باانصیب⚠️ ہے
جو بے ادب ہے رایگاں اُس کا عمل گیا