جانِ جہاں

صِدق سے آپ ﷺ کا جو تاجِ فرماں ہو گا

اُس کا دارین میں اللہ نِگہباں ہو گا

دِل یہ کیوں مَحشَر کے دِن زار و پریشاں ہو گا

آپ ﷺ کا سر پہ مِرے سایۂ داماں ہو گا

اختر بخت مِرا خوب درَخشاں ہو گا

نُور کا سامنے جب مرو⚠️ خراماں ہو گا

آپ ﷺ کے اذن سے پورا میرا ارماں ہو گا

عجب سے حج⚠️ سفر کا مِرے ساماں ہو گا

بے شُمار آپ ﷺ کا پہلے بھی کرم ہے ہم پر

بے حِساب آپ ﷺ کا آیندہ بھی احساں ہو گا

پتھر⚠️ کے اُس در سے ہر اِک سنگ ہے سنگِ پارس

ہے خَذف ریزہ اگر لعل بدخشاں ہو گا

اِک توجّہ ہی سے بھر جائے گا دامَنِ اس کا

آج خُوش نغمتی⚠️ سے ساجدؔ بھی شادخواں ہو گا