← حرفِ نیاز
1
فِردَوس نُورِ مُصطفٰےؐ کا اقتباس ہے
ہر حُسن کی ، جمالِ محمدؐ ، اساس ہے
2
اُس رُخ کی یاد نے مِرے دِل کو بہار دی
ہر سانس میں بسی ہوئی پھولوں کی باس ہے
3
جب سے ہوا ہے وِردِ زُباں نامِ مُصطفٰےؐ
اندیشہ و مَلال نہ خوف و ہراس ہے
4
ہے سازگارغم مجھے اُنؐ کا دیا ہوا
اور درد اُنؐ کا بخشا ہوا دِل کو راس ہے
5
اس چشمِ اِلتِفات کے قُرباں ہیں جان و دِل
ساؔجِد مِرا وجود سراپا سپاس ہے