← حرفِ نیاز
فِردَوس نُورِ مصطفیٰ کا اقتباس ہے
ہر حُسن کی جمالِ محمدؐؐ اساس ہے
اس رُخ کی یاد نے مِرے دِل کو بہار دی
ہر سانس میں بسی ہوئی پھولوں کی باس ہے
جب سے ہوا ہے وِردِ زُباں نامِ مصطفیٰ
اندیشہ و مَلال نہ خوف و ہراس ہے
ہے سازگارِ غم مجھے اُنؐ کا دیا ہوا
اور دردِ اُنؐ کا بخشا ہوا دِل کو راس ہے
اس چشمِ اِلتِفات کے قُرباں ہیں جان و دِل
ساجدؔ مِرا وجود سراپا سپاس ہے